
مختصر تعارف
سر زمینِ شوق مسکنِ حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃاللہ علیہ
یعنی ضلع بہرائچ ایک تاریخی شہر جہاں کی سرزمین رشیوں منیوں اور شہداء سے شاداب و معطّر ہےاسی مٹی سے پیدا ہونے والے شعرا و ادباء کی ایک طویل فہرست ہے اسی ضلع کے ایک قصبہ فخر پور میں رہنے والے جناب الطاف الرحمٰن بیگ صاحب کے گھر 24 نومبر 1989 کو ایک ننھے فرشتے کی آمد ہوئی جسکا نام آفاق الرحمٰن بیگ رکھا گیا الطاف صاحب کا خاندان اس بات سے ناواقف تھا کے یہی بچّہ آگے چل کر آفاق انجم کے نام سے ہندوستان کے تمام شعبہ میں فخر پور کی نمائندگی کریگا اور فخرِ فخر پور کے لقب سے نوازہ جائےگا
آفاق انجم صاحب کی ابتدائی تعلیم روایت کے مطابق مدرسہ جواہر العلوم میں ہوئی جسکے بانی موصوف کے پردادا جواہر بیگ صاحب تھے آپکے دادا حاجی محمد حسین بیگ صاحب فخر پور عیدگاہ کے پیش امام تھے جنکا تخلص صوفی تھا آپکے والد صاحب الطاف انجم صاحب بھی شاعر ہیں جو پیشے سے قانون گو بھی تھے مزید تعلیم کسان پی جی کالج بہرائچ اور نانپارہ کے ایم این آر پی جی کالج میں حاصل کی جہاں پر آفاق صاحب کو میڈل سے بھی نوازہ گیا آفاق صاحب کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا ذوقِ سخن کی چاشنی انکی رگوں میں رواں دواں تھی جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے انکی فکر میں اضافہ ہوتا گیا منفرد لہجہ آبشاروں کا ترنّم جگنوؤں کی چمک چاند کی چاندنی پُھولوں کا تبسّم پرندوں کی چہچہاہٹ موجوں کی شفّاف روانی آبِ زمزم سے دھلے ہوئے الفاظ کی طہارت معنی آفرینی سے مزیّن کلام جب انکے لہجہ میں ڈھلتا ہے اور جب وہ ادبی مشاعرے میں نغمہ سرا ہوتے ہیں تو نسیمِ سحر کے مہکے ہوئے ٹھنڈے و شاداب جھونکوں کی طرح شامِ جاں کو معطّر کر دیتے ہیں صرف فخرپور میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے مختلف شعبوں میں بھی انہیں اپنے کلام اور آواز سے مقبولیت حاصل ہےاسکے علاوہ آفاق انجم صاحب کو نوجوانوں کا محبوب شاعر ہر دل عزیز شاعر ہونے کے سبب فخر پور کے سخنوروں اور دانشوروں نے انہیں فخرِ فخر پور کے لقب سے نوازہ تعلیم کے میدان میں آفاق صاحب ثانیہ انٹر کالج کے وائس پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے اور ساتھ ہی ساتھ شعبہ اردو میں اپنی خدمات انجام دیں موجودہ وقت میں فخرپور یونٹی اسکول میں مینیجر کے عہدے پر فائز ہیں آفاق صاحب کے کلام ہندوستان کے مختلف اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں عالمی پیمانے کی شعراء ڈائریکٹری میں آپکا نام پتہ اور شعر بھی شامل ہے آفاق صاحب کی ادبی خدمات اور شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے تنظیم اُردو ادب فخر پور نے انہیں راحت اندوری ایوارڈ سے بھی نوازہ ہے اسکے علاوہ مختلف تنظیموں سے بھی انہیں اعزاز سے نوازہ جا چکا ہے
منتخب اشعار
غریبی دیکھنی ہے تو چلو پھر گاؤں چلتے ہیں
وہاں کچھ لوگ کانٹوں پر بھی ننگے پاؤں چلتے ہیں
کھاکر فریبِ عشق یہ من شانت ہوگیا
لگتا ہے دھڑکنوں کا بھی ديہانٹ ہوگیا
روشن کریگا کون یہاں عدل کے چراغ
یہ حضرتِ عمر کا زمانہ تو ہے نہیں